सोमवार, 24 अगस्त 2015

خوشبو پتوں کے بنے ہیں آشیاں بچ کے رہو - ڈاکٹر مکیش پانڈے

خوشبو پتوں کے بنے ہیں آشیاں بچ کے رہو 
روز گرتی ہیں یہاں پر بجلیاں بچ کے رہو 

تاج سے اوول نمونہ تم بنا سکتے ہو 
کاٹ لیتا ہے زمانہ انگلیاں  بچ کے رہو 

ساتھ ہیں جب تک اندھیرے دوستوں کچھ بھی کرو 
دھوپ ہے تو اب بنیںگی سرخیاں بچ کے رہو 

اس جہاں کے ہیں عجب دستور اچراج مت کرو 
سانپ سے زیادہ ویسلی  کرسیاں بچ کے رہو 

مذہبوں کی رسسیوں سے گر یوں ہی باندھتے رہے 
اور الجھنگی یہاں پر گاتھیاں بچ کے رہو   

कोई टिप्पणी नहीं:

एक टिप्पणी भेजें